ذہن کو پرسکون کیسے رکھا جائے؟ — ایک ذاتی مشاہدہ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ذہن کا ایک عجیب سا رویہ محسوس کیا۔ زندگی میں سب کچھ خراب نہیں تھا، نہ کوئی بڑی پریشانی تھی، نہ کوئی غیر معمولی مسئلہ۔ روزمرہ کے کام چل رہے تھے، ذمہ داریاں پوری ہو رہی تھیں اور زندگی اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کے باوجود اندر کہیں ایک ہلکی سی بے چینی موجود رہتی …

ذہن کو پرسکون کیسے رکھا جائے؟ — ایک ذاتی مشاہدہ Read more »

ہوتا ہے احساس کچھ یوں اس کی قربت کا، کہ جیسے سرد صبح میں پڑے جسم پر پہلی دھوپ کی کرن، جیسے گرمی کی تیز دوپہر میں بدن کو چھو لے پہلی بوندِ باراں، جیسے خزاں کی شام میں ٹوٹ کے گرے پہلا پتا، یا جیسے بہار کی خوشبو بھری صبح میں کِھلے کسی پھول کی پہلی کرن۔ احساس یوں ہے، کہ جیسے چھو گیا ہو کوئی خوشبودار جھونکا — اچانک، بے خبر، مگر دل …

احساسِ قربت Read more »

ان کہے جذبات

ونسن ایک سادہ سا انسان تھا — گھر، بیوی بچے، نوکری، کچھ پرانے دوست، اور ایک وقت پر سونے جاگنے کا معمول۔ اُس کی زندگی میں بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا، اتنا ٹھیک کہ کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کوئی کہانی چل رہی ہے۔ مگر کہانیاں ہمیشہ لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں، بعض دفعہ وہ صرف خاموشی میں سانس لیتی ہیں۔ ونسن کو ہمیشہ سے لوگوں سے تعلق بنانے میں …

ان کہے جذبات Read more »

دانی   ساؤتھ پنجاب کے دور افتادہ گاؤں میں، چوہدری صاحب اور چودھرائن کی وسیع حویلی کے سائے تلے دو چہرے ہر دم مصروف نظر آتے تھے—کریمو اور بشیرہ۔ یہ دونوں خالص وفاداری اور دیانت کی تصویر تھے۔ چوہدری صاحب ان کی محنت کے قدردان تھے، اور چودھرائن کے لیے بشیرہ ایک بیٹی کی مانند تھی۔  کریمو (کریم بخش) ، عمر رسیدہ اور معمولی صورت کا انسان تھا، لیکن اس کی بیوی بشیرہ (بشیر فاطمہ) نہ صرف خوش شکل …

دانی Read more »